حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کی پرنسپل محترمہ ڈاکٹر سیدہ تسنیم زہراء موسوی رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای کے دفتر کی رسمی دعوت پر شہید امت کی تشییعِ جنازہ اور ان کے پیکر سے الوداع کی تقاریب میں شریک تھیں؛ تاہم اس موقع پر انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی آفس کا دورہ کیا اور حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو بھی کی۔

جامعہ المصطفیٰ کراچی شعبۂ طالبات کی مدیر کی گفتگو سوال اور جواب کی صورت میں پیش ہے:
حوزہ: سب پہلے آپ کو حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی آفس میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
ڈاکٹر سیدہ تسنیم زہراء موسوی: میں بھی حوزہ نیوز ایجنسی کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ جنہوں نے مجھے مدعو کیا؛ تاکہ میں اس عظیم پلیٹ فارم کے توسط سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کر سکوں۔
حوزہ: رہبرِ معظم کے پیکرِ مبارک کی زیارت اور ان کی تاریخی تشییعِ جنازہ میں شرکت کے دوران آپ کے احساسات کیا تھے؟
مدیر جامعہ المصطفٰی شعبۂ طالبات کراچی: جب میری نگاہ رہبرِ معظم امام خامنہ ای کے پیکرِ مبارک پر پڑی تو وہ لمحہ، کیفیت اور احساس میرے لیے بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ دل اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ تھا کہ ہم ایک ایسی عظیم، بصیرت افروز اور تاریخ ساز شخصیت سے محروم ہو رہے ہیں؛ جس نے اپنی بے مثال فکر، بے مثال قیادت اور بے باک جدوجہد کے ذریعے ایک عہد پر گہرے نقوش ثبت کیے۔
غم و اندوہ کی شدت اپنی جگہ تھی، لیکن اس لمحے میں میرے دل میں احساسِ ذمہ داری کی ایک نئی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔ پاکستان کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے اس تاریخی تشییعِ جنازے میں شریک ہونا میرے لیے باعثِ افتخار تھا۔ دنیا کے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے سوگواروں کے درمیان کھڑے ہو کر مجھے شدت سے یہ احساس ہوا کہ یہ سانحہ کسی ایک ملک یا قوم کا نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ غم ہے اور اس غم میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ شریک تھیں اور شریک رہیں گی۔

حوزہ: اس موقع پر آپ نے رہبرِ معظم کے مشن اور افکار کے حوالے سے کن ذمہ داریوں کا احساس کیا؟
سیدہ تسنیم موسوی: اس لمحہ مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ کسی عظیم رہبر سے حقیقی وفاداری محض اشک بہانے یا غم و اندوہ کے اظہار تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے افکار، مشن، اہداف اور مقاصد کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں، انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔
میں نے دل ہی دل میں یہ عہد کیا کہ ان شاء الله، اپنی تمام تر صلاحیتیں اس مقصد کے لیے وقف رکھوں گی کہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں ان بلند افکار، انقلابی بصیرت اور اعلیٰ انسانی اقدار کو شامل کیا جائے، تاکہ رہبرِ شہید کا مشن زندہ رہے اور ان کی جدوجہد کا پیغام آنے والی نسلوں تک پوری امانت و دیانت کے ساتھ منتقل ہوتا رہے۔
حوزہ: آپ نے رہبرِ معظم کی عظیم شہادت کے بعد پاکستانی نوجوان، معاشرہ اور خواتین میں کن تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا؟
سیدہ موسوی: میری نظر میں، رہبرِ معظم کی اس عظیم شہادت کے بعد پاکستان کے فکری، سماجی اور تربیتی ماحول میں کئی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سب سے اہم تبدیلی نوجوان نسل کی سوچ اور طرزِ فکر میں دیکھی گئی۔ ماضی میں بہت سے نوجوان یہ تصور رکھتے تھے کہ دینِ اسلام کا سیاست اور اجتماعی زندگی سے کوئی خاص تعلق نہیں اور امریکہ ایک ایسی ناقابلِ شکست سپر پاور ہے جس کے سامنے مزاحمت ممکن نہیں۔ تاہم، اس عظیم شخصیت کی استقامت، جرأت اور قربانی نے اس تصور کو بڑی حد تک بدل دیا۔
نوجوانوں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو سیاست، معاشرت، عدل اور قیادت سمیت انسانی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

حوزہ: آپ کے خیال میں نوجوانوں کی فکری اور سیاسی سوچ میں سب سے نمایاں تبدیلی کیا آئی؟
ڈاکٹر تسنیم زہراء موسوی: میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کے دلوں سے امریکہ کا خوف بتدریج کم ہونے لگا۔ پہلے یہ تصور عام تھا کہ امریکہ ایک ناقابلِ تسخیر طاقت ہے، لیکن اب بہت سے نوجوان اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ اصل قوت صرف مادی وسائل میں نہیں، بلکہ ایمان، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر توکل میں پوشیدہ ہے۔ جب کوئی قوم اپنے اصولوں اور نظریات پر ثابت قدم رہتی ہے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے عزم و حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی۔
اسی کے ساتھ نوجوانوں میں دین کے بارے میں دلچسپی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے اسلام کو ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کو بحیثیتِ ایک اسلامی حکومت ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ جو لوگ پہلے ایران کا نام سنتے ہی فاصلے اختیار کرتے تھے، وہی اب اس کے بارے میں خود تحقیق کرنے، مختلف شخصیات کے افکار کا مطالعہ کرنے اور اپنے سابقہ تصورات پر نظرِ ثانی کرنے لگے ہیں۔
حوزہ: رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد پاکستان میں سماجی اور عوامی اثرات کو آپ کس طرح دیکھتی ہیں؟
مدیر جامعہ المصطفٰی شعبۂ طالبات کراچی: سماجی سطح پر بھی پاکستان میں ایک نئی بیداری دیکھنے کو ملی۔ مختلف شہروں میں عوام نے بڑی تعداد میں تعزیتی اجتماعات، دعائیہ تقریبات اور یکجہتی کے پروگرام منعقد کیے۔ لوگوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کی ضرورت کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ بالخصوص خواتین نے بھی بھرپور انداز میں ان سرگرمیوں میں شرکت کی اور اپنے دینی شعور، وابستگی اور احساسِ ذمہ داری کا اظہار کیا۔
حوزہ: امام خامنہ ای کی شہادت نے تربیتی اور اخلاقی اعتبار سے پاکستان کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب کیے؟
ڈاکٹر موسوی: تربیتی اور اخلاقی اعتبار سے اس عظیم قربانی نے پاکستانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ لوگوں میں ایثار، قربانی، سادگی، اخلاص اور اپنے مقصد کے لیے ثابت قدم رہنے کا جذبہ پہلے سے زیادہ نمایاں ہوا۔ نوجوانوں کے اندر یہ احساس بیدار ہوا کہ باکردار اور بااصول زندگی ہی حقیقی کامیابی کی ضامن ہے۔
جہادی اور بصیرتی اعتبار سے بھی ایک اہم تبدیلی محسوس کی گئی۔ عوام میں دشمن شناسی کا شعور بڑھا، عالمی حالات و واقعات کو سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا، امتِ مسلمہ کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہونے لگی اور بہت سے نوجوانوں نے اپنی دینی، فکری اور سماجی ذمہ داریوں کو پہلے سے زیادہ اہمیت دینا شروع کی۔
حوزہ: رہبرِ انقلابِ اسلامی کی اس عظیم قربانی کے سب سے اہم اثر کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
ڈاکٹر تسنیم زہراء: میری نظر میں اس عظیم قربانی کا سب سے بڑا اثر یہ ہے کہ اس نے نوجوان نسل کو سوچنے، تحقیق کرنے اور اپنے دین کو شعوری انداز میں سمجھنے کی ترغیب دی ہے۔ میری دعا اور خواہش ہے کہ یہ بیداری محض وقتی جذبات تک محدود نہ رہے، بلکہ علم، کردار، بصیرت اور عملی زندگی میں ایک پائیدار تبدیلی کا ذریعہ بنے، کیونکہ زندہ قومیں اپنے عظیم رہنماؤں کی قربانیوں سے صرف غم حاصل نہیں کرتیں، بلکہ ان کے افکار اور نظریات کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھتی ہیں۔

حوزہ: دین اسلام نے خواتین کو جو مقام اور ذمہ داریاں عطا کی ہیں، ان کی روشنی میں آپ مدرسۂ خواہران میں خاتون مدیر کے کردار کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
سیدہ زہراء موسوی: دین اسلام نے خواتین کے مقام و مرتبے کو نہایت واضح اور روشن انداز میں متعین کیا ہے۔ قرآنِ کریم اور سیرتِ اہلِ بیتؑ ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ عورت صرف خاندان کی تربیت کرنے والی شخصیت ہی نہیں، بلکہ تعلیم، تربیت اور معاشرے کی اصلاح و تعمیر میں بھی ایک مؤثر اور بنیادی کردار کی حامل ہے۔
امام خمینیؒ نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر فرمایا کہ انقلابِ اسلامی کی کامیابی میں خواتین کی بصیرت، قربانیوں اور جدوجہد کا بنیادی کردار رہا ہے۔ اسی فکر کو رہبرِ شہید نے بھی آگے بڑھایا اور ہمیشہ خواتین کی علمی، فکری اور تربیتی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ اس اعتماد کی ایک عملی مثال یہ ہے کہ رہبرِ شہید نے جامعۃ الزہراء قم جیسے عظیم علمی ادارے کی سربراہی کے لیے ایک خاتون کا انتخاب فرمایا۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ خواتین علمی و انتظامی ذمہ داریوں کو نہایت احسن انداز میں انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور ان کی استعداد پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔
حوزہ: آپ کے نزدیک مدرسۂ خواہران میں ایک خاتون مدیر (پرنسپل) کی موجودگی کس قدر اہمیت رکھتی ہے؟
مدیر جامعہ المصطفی شعبۂ طالبات کراچی: مدرسۂ خواہران میں ایک خاتون کا منصبِ پرنسپل پر فائز ہونا نہایت اہم اور مفید ہے، کیونکہ ایک خاتون طالبات کی نفسیاتی، جذباتی اور تعلیمی ضروریات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔ وہ خود ان مراحل اور تقاضوں سے گزر چکی ہوتی ہے، اس لیے طالبات اپنے تعلیمی، خاندانی اور ذاتی مسائل اس کے سامنے زیادہ اعتماد اور بے تکلفی سے بیان کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی بہتر رہنمائی اور تربیت ممکن ہوتی ہے۔
مزید برآں، ایک خاتون مدیر طالبات کے لیے ایک عملی نمونہ بھی ہوتی ہے۔ جب وہ ایک علمی، تربیتی، دینی اور انتظامی منصب پر فائز خاتون کو دیکھتی ہیں تو ان کے اندر یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھی مستقبل میں تعلیم، تحقیق، تدریس اور مدیریت کے میدانوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

حوزہ: آپ کا ایک کامیاب مدیر کی حیثیت سے خواتین خاص طور پر دینی طالبات کے لیے اہم پیغام کیا ہے؟
سیدہ موسوی: میرا یقین ہے کہ اگر خواتین اپنی حقیقی صلاحیتوں کو پہچان لیں اور تعلیم، تربیت، تحقیق اور خودسازی کے میدان میں مضبوط بنیادیں استوار کریں تو وہ نہ صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان، بلکہ پوری امت کی تعمیر و ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ امام خمینیؒ کے ارشادات کا مفہوم بھی یہی ہے کہ عظیم انسانوں کی تربیت ایک عظیم ماں کی آغوش میں ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے خواتین کی ذمہ داری بھی عظیم ہے اور ان کا کردار بھی عظیم ہے؛ لہٰذا دین اسلام نے خواتین کو عزت، اعتماد اور ذمہ داری، تینوں نعمتوں سے نوازا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین خود اپنی علمی، اخلاقی، تبلیغی، تحقیقی اور تربیتی صلاحیتوں کو نکھاریں، تاکہ وہ معاشرے میں اپنی ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں ادا کر سکیں۔ اس تناظر میں، مدرسۂ خواہران میں ایک باصلاحیت، باکردار اور صاحبِ بصیرت خاتون کا منصبِ پرنسپل پر فائز ہونا محض ایک انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ طالبات کی ہمہ جہت تعلیم و تربیت کے لیے ایک ناگزیر اور مؤثر تقاضا بھی ہے۔










آپ کا تبصرہ